Pakistan vs Mossad and Raw
حال ہی میں بعض افراد کو یہ اندیشہ لاحق ہوا ہے کہ اگر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد اور بھارت مل کر پاکستان کے خلاف کسی بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کریں، تو پاکستان کیسے اس کا مقابلہ کرے گا؟
اس خدشے کا تجزیاتی اور تاریخی جواب دینے کے لیے ضروری ہے کہ ان دونوں قوتوں کی اصل اہلیت اور ماضی کی ناکامیاں سامنے رکھی جائیں، اور اس کے بعد پاکستان کی حیثیت کو تاریخی اصولوں کی روشنی میں جانچا جائے۔
موساد کی ناکامیاں: حقائق جو پردے کے پیچھے ہیں
موساد کو ایک ناقابلِ شکست ایجنسی سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ درج ذیل چند نمایاں ناکامیاں اس کی اصل کارکردگی کو ظاہر کرتی ہیں:
1954 - لیوین افیئر (مصر): بم دھماکوں کی سازش میں اپنے ہی ایجنٹ پکڑے گئے، اور سارا منصوبہ بے نقاب ہو گیا۔
1992 - صدام حسین کا قتل: تربیت کے دوران ہی اپنے ہی پانچ فوجی ہلاک کر بیٹھے، اور منصوبہ ناکام ہوا۔
1997 - خالد مشعل پر زہر کا حملہ: کارروائی کے دوران رنگے ہاتھوں پکڑے گئے، اردن کو غصہ آیا، زہر کا antidote بھی دینا پڑا، اور شیخ یاسین کی رہائی بھی عمل میں آئی۔
2004 - نیوزی لینڈ پاسپورٹ اسکینڈل: ایک دماغی مریض کے اصلی پاسپورٹ کی چوری پر موساد کے اہلکار ویزا لینے کی کوشش میں پکڑے گئے۔
2010 - دبئی میں حماس لیڈر کا قتل: سی سی ٹی وی فوٹیج میں پوری کارروائی قید ہو گئی، جسے دنیا بھر میں دیکھا گیا، اور ایجنٹس کی شناخت ہوگئی۔
یہ تمام واقعات اس حقیقت کی گواہی ہیں کہ موساد کی کارکردگی ویسی نہیں جیسی اسے دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔
بھارت کی فوجی برتری اور پاکستان کا ردعمل
بعض مبصرین اس نکتے کو بنیاد بناتے ہیں کہ بھارت کی فوجی طاقت پاکستان سے چار گنا زیادہ ہے، اس لیے پاکستان کے لیے ممکنہ جنگ خطرناک ہو سکتی ہے۔ لیکن صرف اعداد و شمار کی بنیاد پر نتائج اخذ کرنا ایک غلطی ہے۔
تاریخ کے آئینے میں جب بھی کسی قوم کو عددی برتری حاصل رہی، وہ فتح کی ضامن نہیں بنی۔
اسلامی تاریخ کی جنگوں کا تجزیہ
اسلامی تاریخ میں ایسی کئی جنگیں ہوئیں جہاں مسلمان عددی لحاظ سے کمزور تھے، لیکن ایمان، حکمت اور قیادت کے باعث فتح حاصل کی۔ ان میں سے چند اہم جنگوں کا ذکر درج ذیل ہے:
غزوہ بدر:
مسلمانوں کی تعداد صرف 313 تھی، جبکہ کفار کی تعداد 1000 تھی۔ دشمن تین گنا بڑا تھا، لیکن فتح مسلمانوں کے نصیب میں آئی۔غزوہ اُحد:
مسلمان 700 تھے اور دشمن 3000۔ یعنی چار گنا بڑی قوت سے مقابلہ تھا۔ یہ جنگ اس وقت مسلمانوں نے وقتی طور پر ہاری جب رسولِ خدا ﷺ کے حکم کی نافرمانی کی گئی۔غزوہ خندق:
مسلمانوں کی تعداد 3000 تھی اور کفار کی تعداد 10,000۔ دشمن تین گنا بڑا تھا، لیکن منصوبہ بندی، صبر اور ایمان سے مسلمان کامیاب رہے۔غزوہ خیبر:
یہاں مسلمان صرف 1600 تھے جبکہ مخالف قوت 10,000 تھی۔ دشمن چھ گنا بڑا تھا، لیکن میدان میں فتح پھر مسلمانوں کی ہوئی۔غزوہ حنین:
مسلمانوں کی تعداد 12,000 تھی اور دشمن کی 20,000۔ دشمن کی تعداد ڈیڑھ گنا زیادہ تھی، مگر انجام کار فتح مسلمانوں کو ہی حاصل ہوئی۔
یہ تمام واقعات بتاتے ہیں کہ حقیقی قوت عدد میں نہیں، بلکہ جذبے، حکمت اور قیادت کی اطاعت میں ہے۔
نتیجہ
موساد اور بھارت کی تاریخ اور موجودہ صلاحیت کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ نہ تو موساد اتنی قابل ہے جتنی مشہور کی جاتی ہے، اور نہ ہی بھارت کی عددی برتری پاکستان کو شکست دے سکتی ہے۔
اصل ضرورت تیاری، اتحاد، داخلی استحکام اور قیادت کی اطاعت کی ہے۔
پاکستان نے ہر مشکل وقت میں ثابت کیا ہے کہ اگر ارادہ پختہ ہو تو ہر بڑی طاقت کو ناکام بنایا جا سکتا ہے، خواہ وہ کتنی ہی منظم اور بڑی کیوں نہ ہ
Comments
Post a Comment