Posts

Showing posts from September, 2025

Pakistan vs Mossad and Raw

  حال ہی میں بعض افراد کو یہ اندیشہ لاحق ہوا ہے کہ اگر اسرائیلی خفیہ ایجنسی   موساد   اور بھارت مل کر پاکستان کے خلاف کسی بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کریں، تو پاکستان کیسے اس کا مقابلہ کرے گا؟ اس خدشے کا تجزیاتی اور تاریخی جواب دینے کے لیے ضروری ہے کہ ان دونوں قوتوں کی  اصل اہلیت  اور  ماضی کی ناکامیاں  سامنے رکھی جائیں، اور اس کے بعد پاکستان کی حیثیت کو تاریخی اصولوں کی روشنی میں جانچا جائے۔ موساد کی ناکامیاں: حقائق جو پردے کے پیچھے ہیں موساد کو ایک ناقابلِ شکست ایجنسی سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ درج ذیل چند نمایاں ناکامیاں اس کی اصل کارکردگی کو ظاہر کرتی ہیں: 1954 - لیوین افیئر (مصر):  بم دھماکوں کی سازش میں اپنے ہی ایجنٹ پکڑے گئے، اور سارا منصوبہ بے نقاب ہو گیا۔ 1992 - صدام حسین کا قتل:  تربیت کے دوران ہی اپنے ہی پانچ فوجی ہلاک کر بیٹھے، اور منصوبہ ناکام ہوا۔ 1997 - خالد مشعل پر زہر کا حملہ:  کارروائی کے دوران رنگے ہاتھوں پکڑے گئے، اردن کو غصہ آیا، زہر کا antidote بھی دینا پڑا، اور شیخ یاسین کی رہائی بھی عمل میں آئ...

Bermuda triangle mystery solved

  برمودا ٹرائینگل: حقیقت یا ماضی کی سازش؟ برمودا ٹرائینگل، بحرِ اوقیانوس میں واقع ایک مثلثی سمندری علاقہ، طویل عرصے سے دنیا بھر کے ماہرین، محققین اور تجسس پسند لوگوں کے لیے معمہ بنا رہا ہے۔ جہازوں اور طیاروں کے پراسرار طور پر غائب ہونے کی رپورٹس نے اس علاقے کو "شیطانی مثلث" کے نام سے مشہور کر دیا۔ لیکن کیا واقعی یہاں کوئی ماورائی طاقت یا راز چھپا ہے؟ یا یہ صرف سرد جنگ کے دور کی ایک تخیلاتی سازش تھی؟ آئیے اس کا تجزیہ سائنسی، تاریخی اور سیاسی زاویے سے کرتے ہیں۔ 1. برمودا ٹرائینگل: پراسراریت کی معراج اور سرد جنگ برمودا ٹرائینگل کے متعلق واقعات کی انتہا  1945 سے 1980  کے درمیان دیکھی گئی — یہی وہ دور تھا جب دنیا سرد جنگ کے سائے میں تھی، اور امریکہ اور سوویت یونین ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے ہر ممکن حربہ آزما رہے تھے۔ 1962 کا کیوبا میزائل بحران  اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ یہ علاقہ ان دونوں طاقتوں کے لیے عسکری دلچسپی کا مرکز تھا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سازشی نظریات جان بوجھ کر سیاسی پردہ داری کے لیے گھڑے گئے تاکہ دونوں ممالک اپنی خفیہ سرگرمیوں کو چھپا سکیں۔ لیکن  1...

Iran's regional Influence

  ایران کی کمزور ہوتی ہوئی علاقائی حیثیت 2019 سے 2025 کے درمیانی برسوں میں ایران کو داخلی اور خارجی محاذوں پر ایسے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے جنہوں نے اس کی خطے میں مؤثر حیثیت کو بُری طرح متزلزل کر دیا ہے۔ ایک وقت میں جو ملک مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور امریکہ مخالف محاذوں کا سرخیل سمجھا جاتا تھا، آج وہ دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔ پہلا دھچکا: ایٹمی پروگرام کے ماہر کی ہلاکت 2019 اور 2020 کے درمیان ایران کو سب سے پہلا کاری ضرب اُس وقت لگی جب اس کے ایٹمی پروگرام کے مرکزی سائنس دان محسن فخری زادہ کو ایک حملے میں قتل کر دیا گیا۔ یہ سانحہ ایران کے ایٹمی منصوبے کو نہ صرف تکنیکی بلکہ نفسیاتی طور پر بھی پیچھے دھکیل گیا۔ دوسرا زخم: قاسم سلیمانی کی ہلاکت جنوری 2020 میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو بغداد میں امریکی ڈرون حملے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ وہ ایران کے لیے صرف ایک فوجی کمانڈر نہیں بلکہ اس کی تمام بیرونی پالیسیوں اور پراکسی جنگوں کے معمار تھے۔ نظریاتی محاذ پر بھی کمزوری اسی دور میں سعودی حکومت کے سخت مخالف اور ایران کے ہمدرد صح...